
Saturday, June 20, 2009
ناراضگی

Mera Jawaab
Tuesday, December 16, 2008
Saturday, December 13, 2008
خوا تین کے جلوس میں
Mumtaaz
ایک دفعہ امریکا سے ایک ڈیلیگیشن پاکستان آیا تو اس وقت کے حکمرانوں کا، مشہور گلوکارہ ممتاز کو حکم ہوا کہ ان کے استقبال میں کچھ پیش کریں۔ لیکن ممتاز نے ان امریکیوں کے سامنے کچھ بھی پیش کرنے سے منع کردیا۔ پھر تو مظالم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے بیچاری ممتاز کے اوپر۔ انہیں بار بار لاڑکانے (لڑکانہ) کے تھانے بلا بلا کر پریشان کیا جانے لگا۔ اس کے احتجاج میں فنکاروں کا ایک جلوس بھی نکلا۔ لیکن ممتاز کو پریشان کیا جانا کم نہیں ہوا۔ اسی موقعے سے حبیب جالب نے احتجاجا ایک نظم کہ ڈالی اور سڑکوں پر گھوم گھوم کر لوگوں کو سنانے لگے۔ نظم یوں ہے-:
ممتاز
قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا، لاڑکانے چلو
ورنہ تھانے چلو!
اپنے ہونٹوں سے خوشبو لٹانے چلو، گیت گانے چلو
ورنہ تھانے چلو!
حاکموں کو بہت تم پسند آئی ہو، ذہن پر چھائی ہو
اپنے جلووں سے محفل سجانے چلو، مسکرانے چلو
ورنہ تھانے چلو!
منتظر ہیں تمہارے سپاہی وہاں، کیف کا ہے سماں
جسم کی لو سے شمعیں جلانے چلو، غم بھلانے چلو
ورنہ تھانے چلو!
Dastoor
دستور
دیپ جس کے محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو ساۓ میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں، کہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے، تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے، تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے، تم کہو
اس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
تم نے لوٹا ہے صدیون ہمادم سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا